Saturday, 9 November 2013

یوم اقبال کے حوالے سے سکائپ کانفرنس کال کا اہتمام



رات کو سکائپ کال پر : اقبال کے فلسفے پر دلچسپ گفتگو ہوئ: جہاں تک میں سمجھا : کہ خودی کا تعلق عشق سے ہے، عشق خودی کو طاقت مہیا کرتا ہے کہ وہ انسان کو منزل تک پہنچا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال کے شاھین کے بارے میں : یہ پرندہ درویش صفت کا ہے، اس کو کسی چیز سے غرض نہیں ہے نہ ہی یہ کسی کا محتاج بننا پسند کرتا ہے، بلند پرواز ہی اس کا اولین شوق ہے، ایسی صفات کا حامل کوئ پرندہ نہیں ہے اس لیے اقبال نے شاھین کو اپنی شاعری میں مرکزی جگہ دی ہے۔ اقبال کی شاعری میں دکھ نظر آتا ہے۔ اقبال اپنی شاعری میں کھوئ ہوئ صدیوں سے پہلے کے زمانے میں مسلمانوں کے عروج کو یاد کرتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ وہ کھویا ہوا مقام مسلمانوں کو دوبارہ نصیب ہو۔۔۔۔۔۔
اس بارے میں : نوید رزاق بٹ، عامر رضا صاحب اور دوسرے شرکاء نے خوب روشنی ڈالی ۔۔۔۔۔۔۔
اس سکائپ کال سے ہمیں اس بات کا احساس ہوا ہے کہ ہمیں یہ سلسلہ آگے بڑھانا چاہئیے ۔۔۔۔۔ 
رات کو نوید رزاق صاحب کا کلام سننے کا شرف حاصل ہوا ، محترمہ ثوبیہ ناز صاحبہ نے اپنا کلام پڑھ کر سنایا تو محفل کو جیسے چار چاند لگ گئے ، ان کے شگفتہ شاعرانہ لہجے نے جیسے محفل کے اندر نئ روح پھونک دی ' ایسا محسوس ہونے لگا کہ یہ محفل مشاعرہ ہے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
ایسے تعمیری سلسلے ان شاء اللہ ! منعقد ہوتے رہیں گے' اراکین بزم سے گزارش ہے کہ ان سلسلوں میں شرکت کیا کریں' خاص کر تخلیق کار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ سلسلے تخلیقی عمل کے لیےمعاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, 24 October 2013

قوانین و اختیارات : اردو منتظمین کے لیے

تمام اردو منتظمین کو مندرجہ ذیل قوانین کی پابندی کرنی ہوگی۔
۔۔۔۔۔
ایسی پوسٹس جس سے مذہبی انتہا پسندی کوہوا ملتی ہو یا ایسی پوسٹس جس میں سیاسی مواد ہو ' پیشگی اطلاع کے بغیر ڈیلیٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے' اگر کوئ ممبر بار بار اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو اسے بزم سے خارج کردیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔
ذاتی نوعیت کی پوسٹس جس میں اپنے حالات بیان کیے جائیں' جیسے میں سونے لگا ہوں۔۔۔ ایسی چھوٹی چھوٹی بے معنی پوسٹس ۔۔۔۔۔۔ آج میرے گھر یہ پکا ہے ۔۔۔۔۔ آج میں نے یہ کھایا ہے۔۔۔ آجاءو جس جس نے لسی پینی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کی پوسٹس کرنے کی اجازت نہیں ہے ' ان کو ڈیلیٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ یہ ادبی گروپ ہے اس لیے کسی بھی شاعریا مصنف کی تخلیق کو اس کے نام سے درج کیا جائے ' اگر شاعر یا مصنف کا نام معلوم نہیں تو پوسٹ کے ساتھ نامعلوم لکھا جائے ۔۔۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا پوسٹ ڈیلیٹ کردی جائےگی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹی چھوٹی پوسٹس ایک جملے کی ' جن کا ادب سے کوئ تعلق نہیں ہے نہ ہی ان کا کوئ گہرا مفہوم ہے' انھیں ڈیلیٹ کردیا جائے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گانے والی پوسٹس ڈیلیٹ کردی جائیں ' صرف غزل پیش کرسکتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوسٹس کے درمیان ' مناسب وقفہ ہونا چاہئیے کم ازکم جب تک کسی ممبر کی سابقہ پوسٹ کو چار ' پانچ اراکین لائک نہیں کرتے' اسے تیزی سے دوسری پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ مسلسل تیزی سے پوسٹس کرنے والے ممبر کو وارننگ جاری کی جائے اور اگر وہ قواعد کی پابندی نہیں کرتا تو اسے بزم سے خارج کردیا جائے ' کیونکہ بہت سی تخلیقی اور معیاری پوسٹس نیچے چلی جاتی ہیں ' قارئین اسے پڑھ نہیں پاتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو بزم میں لڑائ جھگڑا کرنے کی یا کسی کو تنقید کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہے اگر کوئ ممبر ایسا کرتا پایا جائے تو اسے بزم سے خارج کردیا جائے' اس کے علاوہ خواتین اور دوسرے اراکین سے نازیبہ گفتگو کرنے والے کو پیشگی اطلاع کے بغیر ہی خارج کردیا جائے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ قوانین تمام منتظمین پر بھی لاگو ہوتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, 23 October 2013

خرم امتیاز' توصیف احمد کشاف اور عبدالباسط احسان کی ملاقات


آج خرم امتیاز صاحب اور توصف احمد کشاف صاحب سے ملاقات ہوئ۔
یہ دعوت خرم امتیاز صاحب کی طرف سے تھی' جو بون فائر کے مقام پر وقوع پذیر ہوئ۔
خرم امتیاز صاحب سے تو پہلے مل چکا تھا' مگر توصیف احمد سے یہ پہلی ملاقات تھی ۔ ماشاء اللہ بہت زندہ دل اور ہنس مکھ طبعیت کے نفیس انسان ہیں۔ زندگی کا وسیع تجربہ اور پختہ سوچ رکھنے والے شخص ہیں۔
دعوت ادبی نوعیت کی تھی۔ گروپ کا ماحول بہتر بنانے' اسے ادبی رنگ میں ڈھالنے کے بارے میں مشاورت ہوئ۔ 
یہاں کے سرگرم اراکین کے بارے میں گفتگو ہوئ اور اس امر کو بہت سراہا گیا کہ لوگ یہاں سے سیکھ رہے ہیں' کل تک جن کو اردو لکھنی نہیں آتی تھی آج اردو رسم الخط میں باقاعدہ تحریر لکھنے کے قابل ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر ان اراکین کا ذکر ہوا جنھوں نے اردو گروپ کا ماحول بہتر بنانے میں تعاون کیا ہے۔
یہ بزم صرف ایک گروپ نہیں ہے بلکہ یہ ایک درسگاہ ہے ' یہاں لوگ نظم و ضبط سیکھتے ہیں' گفتگو کا سلیقہ آتا ہے' خواتین سے کیسے بات کی جانی چاہئیے یہ تک سیکھا جاتا ہے' یہ عام گروپس کی طرح نہیں ہے جہاں پوسٹ کی اور رفو چکر ہوگئے بلکہ ہر شخص کی'کی گئ پوسٹ کو پرکھا جاتا ہے' ادبی ذوق کا اندازہ لگایا جاتا ہے' خاص کر گفتگو ہر شخص کے کردار کی عکاس ہوتی ہے۔
اس بزم کے حوالے سے بہت سے بہترین دوست ملے ہیں' یہاں کا فیملی جیسا ماحول برقرار رکھنے کے لیے جن ممبران نے تعاون کیا ' ان کی خاص طور پر تعریف ہوئ۔
ہم نے اس بزم کا ماحول مزید بہتر بنانا ہے' یہ معاملہ زیر بحث آیا ' جس میں پوسٹس کی تعداد میں توازن بھی شامل تھا۔ 
کیونکہ یہ ادبی گروپ ہے اس لیے یہ معاملہ کافی عرصے سے زیر غور ہے کہ کسی بھی تحریر یا کلام کے ساتھ ۔ مصنف یا شاعر کا نام ضرور درج ہونا چاہئیے' اگر نام معلوم نہیں تو ساتھ لکھا ہو نامعلوم ۔۔۔۔۔۔ 
چھوٹی چھوٹی پوسٹس مسلسل کرتے جانا ' اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ بہت سے اراکین کی تخلیقی و معیاری پوسٹس بھی نیچے چلی جاتی ہیں 'اس سنجیدہ معاملے کو اٹھایا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, 19 October 2013

معراج رسول رانا سے ملاقات : عبدالباسط احسان


لاہور ہوٹل پہنچ کر معراج رسول رانا نے فون کیا کہ عبدالباسط میں پہنچ چکا ہوں تم بھی پہنچ جاءو' مگر آنے سے پہلے بتا دینا کہ چل پڑا ہوں۔
بس پھر میں چل پڑا ' معراج رسول رانا سے ملنے کی آرزو دل میں لیے۔۔۔۔۔ میرے فیس بک کا قدیم ترین دوست ' اتنے عرصے بعد پاکستان آیا ہے' پھر نجانے کب یہ موقع آتا۔
میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی' بس راستے میں سوچتا رہا کہ بتا دوں کہ میں پہنچنے والا ہوں' مگر کال ہی نہ کرسکا ' لاہور ہوٹل آگیا۔
لاہور ہوٹل کےسامنے پہنچ کر ' میں نے فون کیا کہ معراج میں نیچے ہوں ' معراج نے کہا اوپر آءو ۔۔ میں اوپر گیا تو ہوٹل والوں نے کہا نیچے ایک بندہ گیا ہے شاید وہ ہی معراج ہو ' میں نیچے آیا تو معراج کا فون آگیا کہ میں اوپر ریسپشن کے قریب کھڑا انتظار کر رہا ہوں ۔ 
بس اوپر دوبارہ گیا' انتطار کی گھڑیاں ختم ہوئیں' دو دوست گلے لگ کر دیر تک ایک دوسرے کی محبت کو محسوس کرتے رہے۔
پھر ہم بائیک پر باہر نکل گئے' بغیر سوچے سمجھے کہ کہاں کو جانا چاہئیے' راستے میں ہی چمن کا پروگرام بن گیا' چمن سے آئیس کریم کھائ ' میں اوپر بل دے رہا تھا' جبکہ معراج نیچے دینے والا تھا' میں نے کہا ایک جگہ ہی بہت ہے۔
پھر معراج کہتا باغ جناح چلتے ہیں' میں نے کہا اس وقت تو چمگادڑ بھی باغ جناح کے درخت چھوڑ دیتی ہے۔ 
پھر ایسے ہی فوٹریس سٹیڈیم کا پروگرام بن گیا' چلتے چلتے ' راستے میں بھی ڈھیروں باتیں ہوئیں۔
گجرات کیسا ہے؟ امریکہ میں زندگی کیسی گزر رہی ہے۔
معراج بہت سلجھی ہوئ طبعیت کا انسان ہے' بہت حد تک شرمیلا انسان ' مجموعی طور پر اپنی شخصیت کا اچھا اثر چھوڑا ہے۔
ڈھیروں باتیں کرنے کے بعد دوبارہ گرمجوشی سے گلے ملے' ایک دوسرے کو دعاءوں کے ساتھ الوداع کہا ' یہ میری زندگی کی معراج کے ساتھ ایک یادگار ملاقات ہے' جس کا ایک منظر معراج نے کیمرے کی آنکھ سے محفوط کرلیا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔